عورت اپنی عمر کے بارے میں اس وقت جھوٹ بولنا شروع کرتی ہے جب اس کا چہرہ سچ بولنا شروع کر دے عادت محبت سے زیادہ جان لیوا ہوتی ہے میں نے کی محبتوں کو فنا ہوتے دیکھا ہے مگر عادت محبت سے بھی بڑھ کر ہوتی ہے۔

محبت بھی اس میں عادت پڑ جانا ہی ہے کبھی بھی شادی کے کھانے کی برائی نہ کرو کیوں کہ اکثر ماں باپ کی پوری عمر لگی ہوتی ہے صرف ایک وقت کے کھانے کے لئے مرد ساری عمر جھڑکیاں کھا کر دھکے برداشت کرتا ہوا کفالت کی راہ نہیں چھوڑتا مکان بنواتا ہے پردیسیوں کی مٹی پھانکتا ہے آخر میں جوان بچے کہتے ہیں اب باجی آپ کوئی ڈھنگ کا کام کرلیتے تو آج زندگی سنور جاتی

محبت ہو جانے کے بعد پھر ذاتی آزادی کی کوئی گنجائش نہیں رہتی بیک وقت دو افراد سے محبت نہیں کی جا سکتی محبوب سے بھی اور اپنی ذات سے بھی اس طرح محبت ایک طرح کی غلامی کا عمل ہے کتنی عجیب ہوتی ہیں لڑکیاں پسند کا سوٹ نہ ملے تو ماں باپ سے لڑتی ہیں

عید نہیں مناتیں مگر ایک ناپسندیدہ انسان کے ساتھ چچا پوری زندگی گزار دیتی ہے حسد کا جذبہ احساس کمتری سے پیدا ہوتا ہے جو شخص اپنے آپ کو گھٹیا سمجھتا ہے وہ دوسروں سے جلتا ہے

احساس سے بنتے ہیں رنگ نسل اور چال دیکھ کر تو جانور خریدے جاتے ہیں عورت کو اپنے پیار میں پاگل کرنا ہے تو اس کو عزت اور توجہ دو اور تو یہ دو چیزیں دو گے تو وہ خود بخود تمہیں پسند کرنے لگے گی

شئیر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں