السلام عليكم ورحمةالله وبركاته!

میرا سوال یہ ہے کہ کیا بیوی اپنے خاوند کا عضوتناسل منہ میں لے سکتی ہے یا کہ نہیں؟اور اسی طرح میاں اپنی بیوی کا فرج چاٹ سکتاہے یاکہ نہیں؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس عمل کو اورل سیکس کہا جاتا ہے اور یہ ایک ناپسندیدہ اور مکروہ عمل ہے ،جو مغربی تہذیب کا دیا ہوا ایک غیر اخلاقی تحفہ ہے۔وہی زبان جس سے ہم قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور پھر اسی زبان میں عضو تناسل ڈال لیں ،یہ کوئی مناسب طرز عمل نہیں ہے

اگرچہ بعض اہل علم نے اس کو استمتاع کے عموم میں شامل سمجھ کر اس کی اجازت دی ہے۔ کیونکہ سوائے دبر کے بیوی سے ہر قسم کا استمتاع جائز ہے۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ مغربی تہذیب کا اثر ہے جو ہمارے معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلتا جا رہا ہے۔ یہ عمل تکریم انسانیت اور احترام مسلم کے منافی ہے۔ اللہ نے انسان کو اس سے بلند پیدا فرمایا ہے۔

کیا کسی مسلمان کے لیے یہ مناسب طرز عمل ہے کہ وہ جس منہ کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہو، اذکار پڑھتا ہو اور اللہ کی تسبیح کرتا ہو۔ اسی منہ کے ساتھ شرمگاہ کا بوسہ لے۔ نبی کریم کی تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ آپ ہر اچھے کام کو دائیں ہاتھ سے انجام دیتے تھے۔ اور استنجاء وغیرہ بائیں ہاتھ سے فرماتے تھے۔ جب ہاتھوں میں اتنی احتیاط کی جا سکتی ہے تو زبان تو پھر ایک افضل واعلی عضو ہے۔

لہذا آدمی کو چاہیئے کہ وہ مغرب کی مشابہت اختیار کرنے کی بجائے تکریم انسانیت اور احترام مسلم کا خیال رکھے اور اللہ تعالی کی جانب سے حلال کردہ امور سے استمتاع پر قناعت کرے۔ اور مشکوک امور سے اجتناب کرے۔

شئیر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں