شوہر کے لیے اپنی بیوی کی پستان کو منھ میں لینا اور چوسنا جائز ہے، ا لبتہ اگر دودھ آنے کا گمان ہو تو پھر ایسا نہ کرنا چاہیے، کیونکہ پستان سے دودھ نکلنے پر مرد کے حلق میں جانے کا اندیشہ ہے اور بیوی کا دودھ پینا حرام ہے

عنوان:بیوی کی پچھلی شرمگاہ میں مباشرت کرنے سے کیا نکاح ٹوٹ جاتا ہے؟

سوال:(۱) اگر غلطی سے بیوی کی دبر میں مباشرت کر لی جائے تو کیا نکاح ٹوٹ جاتا ہے ؟ (۲) بیوی سے دور ہوں یعنی پردیس میں اور ہمبستری نہ کر سکیں تو کیا بیوی سے تنہائی میں ویڈیو سیکس کر سکتے ہیں یا ہاتھ سے خود کو بیوی کا سوچ کے استعمال کر سکتے ہیں؟ جواب عنایت فرمائیں۔

جواب نمبر: 64939

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 675-700/N=7/1437 (۱) : بیوی کی دبر (پچھلی شرمگاہ) میں صحبت کرنے سے نکاح تو نہیں ٹوٹتا، البتہ بالقصد وارادہ بیوی کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت کرنا سخت حرام وناجائز ہے، احادیث میں اس پر مختلف وعیدیں وارد ہوئی ہیں، پس ایسی صورت میں دونوں پر صدق دل سے توبہ واستغفار لازم ہوگا۔ قال اللہ

تعالی: ﴿نساوٴکم حرث لکم فأتوا حرثکم أنی شئتم﴾ (سورہ بقرہ، آیت: ۲۲۳) ، عن ابن عباس وأبي ھریرة أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ”ملعون من عمل عمل قوم لوط“ ، رواہ رزین، وعن ابن عباس أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ”لا ینظر اللہ عز وجل إلی رجل أتی رجلاً أو امرأة في دبرھا“ رواہ الترمذي (مشکوة شریف، ص ۳۱۳، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند) ، اتفق الفقہاء علی أن اللواط محرم وأنہ من أغلظ الفواحش وقد ذمہ اللہ تعالی فی کتابہ الکریم وعاب علی فعلہ فقال: ولوطا إذ قال لقومہ أتأتون الفاحشة الآیة (سورة الأعراف، ۸۰، ۸۱) وقال تعالی: أتأتون الذکران الآیة (سورة الشعراء، ۱۶۵، ۱۶۶) وقد ذمہ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم بقولہ:

لعن اللہ من عمل عمل قوم لوط ولعن اللہ من عمل عمل قوم لوط، ولعن اللہ من عمل عمل قوم لوط (أخرجہ أحمد والحاکم من حدیث ابن عباس وصححہ الحاکم ووافقہ الذھبي) (موسوعہ فقہیہ ۳۵: ۳۴۰) ، وفی الأشباہ: حرمتھا عقلیہ فلا وجود لھا فی الجنة، ……… وفی البحر: حرمتھا أشد من الزنا لحرمتھا عقلاً وشرعاً وطبعاً (در مختار مع شامی ۶: ۳۹، ۴۲، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند) ۔ (۲) : اس صورت میں یا تو بیوی کو اپنے پاس بلالیا جائے اور اگر یہ مشکل ودشوار ہو توفون پر سیکس کی باتیں کم از کم کی جائیں اور اگر شہوت کا تقاضہ زیادہ ہو تو کثرت سے روزے رکھ کر اس پر قابو پانے کی کوشش کی جائے، باقی تنہائی میں بیوی سے ویڈیو سیکس کرنا یا ہاتھ سے منی خارج کرنا درست نہیں، نیز یہ طبی اعتبار سے بھی نقصان دہ ہے؛ لہٰذا اس سے پرہیز کیا جائے۔

اور اگر اسباب شہوت سے بچنے کے باوجود فطری طور پر شہوت کا سخت تقاضہ ہو اور اس کی وجہ سے ابتلائے معصیت کا قوی اندیشہ ہو اور اس سے بچنے کے لیے ہاتھ سے منی خارج کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ ہو تو ایسی صورت میں بوجہ مجبوری گناہ سے بچنے کے لیے ہاتھ سے منی خارج کرنے کی گنجائش ہوگی،

ویسے حتی الامکان اس سے بچنے کی بھر پور کوشش کی جائے؛ کیوں کہ یہ عمل ایک دو بار کرلینے سے عام طور پر لوگوں کو اس کی عادت ہوجاتی ہے اور یہ طبی اعتبار سے سخت نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ اور اگر بار بارشدت شہوت ہوتی ہو اور آدمی مجبور جیسا ہوجاتا ہو تو بیوی کو ساتھ رکھنے یا وطن ہی میں کوئی ذریعہ معاش اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے، نیز اس میں بیوی کی عفت وپاک دامنی کی بھی حفاظت ہے

عنوان:میاں بیوی سیكس كے دوران ایك دوسرے كی شرم گاہ كو زبان لگانے كا حكم؟

سوال:مجھے یہ پوچھنا ہے کہ سیکس کے دوران میں اپنی بیوی کی فرج کو زبان لگاتا ہوں اور میری بیوی میری شرم گاہ کو چوستی ہے میرے آپ سے دو سوال ہیں؛ بیوی کی شرم گاہ میں انزال سے پہلے جو گیلا پن ہوتا ہے وہ کس مادے سے ہے؟ اور کیا وہ نجس ہے؟ میری شرم گاہ سے انزال سے پہلے جو پانی نکلتا ہے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ میاں بیوی کا ایک دوسرے کو ہر ممکن لزت اور تسکین دینے کے لئے یہ عمل بہت رواج پا چکا ہے۔ یہ حرام نہیں مکروہ ہے۔ اس کو حرام یا مکروہ کیسے کہا جا سکتا ہے۔جبکہ شریعت میں اس کے بارے میں کوئی واضح حکم موجود نہیں ہے اور جہاں تک علماء کے فتویٰ کی بات ہے تو کئی علماء اس کو جائز قرار دیتے ہیں۔

جواب نمبر: 31689

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی(م): 983=983-6/1432 فرج سے خارج کی رطوبت (گیلاپن) تو پاک ہے، فرج داخل کی رطوبت صاحبین ؒ کے نزدیک نجس ہے اور امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک نجس نہیں بشرطیکہ اس میں خون وغیرہ ناپاک چیز نہ لگی ہو، رطوبة الفرج طاہرة خلافاً لہما (درمختار) مرد کی شرم گاہ سے جو پانی نکلے خواہ وہ مذی ہو یا ودی، بہرصورت ناپاک ہے، شوہر بیوی کا ایک دوسرے کی شرم گاہ کو زبان لگانا اور چوسنا یہ مکروہ اور حیوانیت کا عمل ہے، اگرچہ اس عمل کے حرام ہونے پر قطعی حکم موجود نہیں لیکن فطرتِ سلیمہ کے خلاف ہونے سے تو انکار نہیں، جو علماء اس کو جائز قرار دیتے ہیں وہ کراہت کے ساتھ جائز کہتے ہیں یا بلاکراہت؟ اگر بلاکراہت جواز کے قائل ہیں تو اس پر دلیل کیا ہے؟

شئیر کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں